ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی اعلی کمیٹی کے رکن محمد دھقان نے مہرکے پارلیمانی نامہ نگآر کے ساتھ گفتگو میں مصر کے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران مصری عوام کے اسلامی انقلاب کا حامی ہےمرسی کم ظرف انسان تھا اور مرسی کی کم ظرفی اس کے ایران کے پہلے دورے کے دوران عیاں ہوگئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے محمد مرسی نے ایک سال کے عرصہ میں مصری عوام کے اسلامی انقلاب پر کاری ضربیں واردکی ہیں ۔ دھقان نے کہا کہ مرسی نے اسلام کے حقیقی اور واقعی اصولوں کو ایک سال کے عرصہ میں بالکل پس پشت ڈال دیا اور اس نے امریکہ اور اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا، دھقان نے کہا کہ مصر کے سابق صدر مرسی نے فلسطین ، شام اور ایران کے بارے میں اچھا کردار ادا نہیں کیا یہاں تک کہ مرسی نے قاہرہ میں اسرائیل کے سفارتخانہ کوبند کرنے کے وعدوں کو فراموش کرکے قاہرہ میں شام کا سفارتخانہ بند کردیا اور شامی عوام اور حکومت کے خلاف امریکی و اسرائیلی ایجنڈے پر کام کرنا شروع کردیا۔
دھقان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جو مصر میں اپنے حامیوں کی سرنگونی کے بارے میں تشویش میں مبتلا تھے انھوں نے مرسی کو اپنے سینہ سے لگا کر زمین پر پھینک دیا، مرسی نے اسرائيلی صدر کے نام دوستی کا خط لکھ کر مصری عوام کے انقلاب پر کاری ضرب وارد کی اور مرسی مصری انقلاب کے دشمنوں کے دوست بن گئے اور مصری انقلاب کے دوستوں کے دشمن بن گئے ۔ انھوں نے کہا کہ محمد مرسی کی غلطیوں اور اشتباہات کو اخوان المسلمین کے کھاتے میں نہیں ڈالنا چاہیے مرسی کم ظرف اور ناتجربہ کار انسان تھے ۔
.......
/169